Monday, 11 January 2021

جرأت اور بے باکی بھی ہو سکتی ہے

 جرأت اور بے باکی بھی ہو سکتی ہے

یہ اس کی چالاکی بھی ہو سکتی ہے

ایک مصیبت ہے یہ بد پرہیزی بھی

دوسری خوش خوراکی بھی ہو سکتی ہے

ہم تو خیر ہیں شاکی پہلے دن سے ہی

قسمت ہم سے شاکی بھی ہو سکتی ہے

دھوپ کا دن بھر غدر مچانا بستی میں

سورج کی سفاکی بھی ہو سکتی ہے

ان آنکھوں میں ڈوبا بھی جا سکتا ہے

خشکی پر تیراکی بھی ہو سکتی ہے

پے در پے مسعود ہماری ہجرت سے

فلک کی رنگت خاکی بھی ہو سکتی ہے


مسعود احمد اوکاڑوی

No comments:

Post a Comment