جرأت اور بے باکی بھی ہو سکتی ہے
یہ اس کی چالاکی بھی ہو سکتی ہے
ایک مصیبت ہے یہ بد پرہیزی بھی
دوسری خوش خوراکی بھی ہو سکتی ہے
ہم تو خیر ہیں شاکی پہلے دن سے ہی
قسمت ہم سے شاکی بھی ہو سکتی ہے
دھوپ کا دن بھر غدر مچانا بستی میں
سورج کی سفاکی بھی ہو سکتی ہے
ان آنکھوں میں ڈوبا بھی جا سکتا ہے
خشکی پر تیراکی بھی ہو سکتی ہے
پے در پے مسعود ہماری ہجرت سے
فلک کی رنگت خاکی بھی ہو سکتی ہے
مسعود احمد اوکاڑوی
No comments:
Post a Comment