Monday, 11 January 2021

مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھی

 مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھی

ہاتھ ان کا ہم نے تھام لیا ہے کبھی کبھی

مے کش بھلا سکیں گے نہ ساقی کا یہ کرم

گِرتوں کو اس نے تھام لیا ہے کبھی کبھی

ساقی نے جو پلائی ہماری ہی تھی خرید

ہم سے بھی اس نے دام لیا ہے کبھی کبھی

کیا بات ہے کہ ترکِ تعلق کے باوجود

ہم نے تمہارا نام لیا ہے کبھی کبھی

اے فرطِ شوق ہم نے تصور کے فیض سے

نظارہ ان کا عام لیا ہے کبھی کبھی

ٹھکراتا کیسے حسن کی اس پیشکش کو میں

مجبور ہو کے جام لیا ہے کبھی کبھی

دیکھا کبھی نہیں انہیں اے راز بزم میں

جلوہ کنارِ بام لیا ہے کبھی کبھی


راز لائلپوری

No comments:

Post a Comment