Monday, 11 January 2021

یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی

 یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی

یہاں خدا کا تصور کچھ اور ہے بھائی

سناؤ کیسے ہو، کیسے ہیں چاند پر حالات

زمین پر تو وہی ظلم و جور ہے بھائی

کوئی پلک بھی جھپکتا نہیں تماشے میں

مداریوں کا طلسمانہ طور ہے بھائی

وطن کی صبح سے ہجرت کی رات دُور نہیں

حرا سے چند قدم غارِ ثور ہے بھائی

تمہیں تو اِذنِ سفر مل چکا، مبارک ہو

ہمارا نام ابھی زیرِ غور ہے بھائی

جو کائنات کی چھت سے نظر کرو شاہد

وہاں سے عالمِ حیرت ہی اور ہے بھائی


شاہد ماکلی

No comments:

Post a Comment