Monday, 11 January 2021

خواب ایسے کہ گئی رات ڈرانے لگ جائیں

 خواب ایسے کہ گئی رات ڈرانے لگ جائیں

درد جاگے تو سلانے میں زمانے لگ جائیں

ہم وہ نادان ہواؤں سے وفا کی خاطر

اپنے آنگن کے چراغوں کو بجھانے لگ جائیں

تھوڑے گیہوں ابھی مٹی پہ رکھے رہنے دو

وہ پرندے کہ کبھی لوٹ کے آنے لگ جائیں

آس مہکے جو کسی کھوئے جزیرے کی کبھی

تیری بانہیں مجھے ساحل پہ بلانے لگ جائیں

کوئی دشمن نہ ہو ان کو تو یہ اِیذا پرور

اپنے خیموں پہ ہی تیروں کو چلانے لگ جائیں


قیوم طاہر

No comments:

Post a Comment