خواب ایسے کہ گئی رات ڈرانے لگ جائیں
درد جاگے تو سلانے میں زمانے لگ جائیں
ہم وہ نادان ہواؤں سے وفا کی خاطر
اپنے آنگن کے چراغوں کو بجھانے لگ جائیں
تھوڑے گیہوں ابھی مٹی پہ رکھے رہنے دو
وہ پرندے کہ کبھی لوٹ کے آنے لگ جائیں
آس مہکے جو کسی کھوئے جزیرے کی کبھی
تیری بانہیں مجھے ساحل پہ بلانے لگ جائیں
کوئی دشمن نہ ہو ان کو تو یہ اِیذا پرور
اپنے خیموں پہ ہی تیروں کو چلانے لگ جائیں
قیوم طاہر
No comments:
Post a Comment