Saturday, 12 December 2020

صرف بے نشانی ہے

 صرف بے نشانی ہے 


خوش گمان لوگوں کو

ایک دن خبر ہو گی

جس زمیں پہ رہتے ہیں 

وہ زمیں کسی کی ہے

آسماں کسی کا ہے

جس کو گھر سمجھتے تھے

وہ مکاں کسی کا ہے

منزلیں کسی کی ہیں 

کارواں کسی کا ہے

کچھ نہیں یہاں ان کا

صرف بے نشانی ہے 

اور نشاں کسی کا ہے


شاہین مفتی

No comments:

Post a Comment