مجھ سے ہوا نشے میں ہم آغوش آشنا
یا رب اسی طرح رہے بے ہوش آشنا
کم حوصلہ ہیں ہم کو کہاں دید کی نظر
ہے مصلحت جو ہم سے ہی روپوش آشنا
اے نوجوانو! اتنا اکڑتے ہو کیوں کبھی
ظاہر میں گو لکھا نہ لکھا خط تو کیا ہوا
ہوتے ہیں کوئی دل سے فراموش آشنا
کون اٹھ گیا ہے مجمع عشاق سے کہ آج
آئے نظر سبھی مجھے خاموش آشنا
مستوں کی بات کا نہیں کچھ اعتبار دل
ہوتے ہیں کب کسی کے یہ مے نوش آشنا
بارے حسؔن کے نام کو وہ سن کے سوچ سوچ
بولا کہ ہاں یہ نام تو ہے گوش آشنا
میر حسن دہلوی
No comments:
Post a Comment