Wednesday, 4 January 2017

مجھ سے ہوا نشے میں ہم آغوش آشنا

مجھ سے ہوا نشے میں ہم آغوش آشنا
یا رب اسی طرح رہے بے ہوش آشنا
کم حوصلہ ہیں ہم کو کہاں دید کی نظر
ہے مصلحت جو ہم سے ہی روپوش آشنا
اے نوجوانو! اتنا اکڑتے ہو کیوں کبھی
ہم سے بھی اس جوانی کا تھا جوش آشنا
ظاہر میں گو لکھا نہ لکھا خط تو کیا ہوا
ہوتے ہیں کوئی دل سے فراموش آشنا
کون اٹھ گیا ہے مجمع عشاق سے کہ آج
آئے نظر سبھی مجھے خاموش آشنا
مستوں کی بات کا نہیں کچھ اعتبار دل
ہوتے ہیں کب کسی کے یہ مے نوش آشنا
بارے حسؔن کے نام کو وہ سن کے سوچ سوچ
بولا کہ ہاں یہ نام تو ہے گوش آشنا​

میر حسن دہلوی

No comments:

Post a Comment