Wednesday, 4 January 2017

تڑپے ہے بہت یہ دل افگار ہمارا

تڑپے ہے بہت یہ دلِ افگار ہمارا
آ جائے شتابی کہیں دل دار ہمارا
بیرنگ ہے کچھ آئینہ دل کا یہاں عکس
ہے بو قلموں جلوہ گر یار ہمارا
جذبہ ہے ستم کا کہ کشش مہر کی ہے واں
جاتا ہے جو دل ہو کے یہ ناچار ہمارا
گزری ہے جو کچھ غم میں تِرے ہم پہ تعب ہائے
کس سے کہیں اب کون ہے غم خوار ہمارا
آخر تو ہمیں قتل کرے گا کوئی دم میں
ٹک سُن تو لے احوال تو اک بار ہمارا
ہے زیست کا حظ تجھ سے اگر تُو ہی نہ ہوئے
کیا جینا ہے دنیا میں پھر اے یار ہمارا
تُو نام حسنؔ لیتا ہے کیا زلف کا اس کی
آگے ہی پریشان ہے دلِ زار ہمارا​

میر حسن دہلوی

No comments:

Post a Comment