Monday, 1 March 2021

شادمانی بھی ہے اور غم کی فراوانی بھی ہے

شادمانی بھی ہے اور غم کی فراوانی بھی ہے

زلف میں سلجھاؤ بھی ہے اور پریشانی بھی ہے

زندگی انسان کی ساحل بھی طغیانی بھی ہے

اشک جیسے آنکھ میں موتی بھی ہے پانی بھی ہے

دیکھیۓ حسنِ تصور کی دو رنگی دیکھیۓ

دل کی بستی میں اندھیرا بھی ہے تابانی بھی ہے

حسنِ شعلہ ریز کی رنگینیوں سے پوچھیۓ

آگ کا دریا بھی دل بھی خون بھی پانی بھی ہے

مصحفِ رخ پر جو ہے زلفِ بکھری ہوئی

کفر کی ظلمت بھی ہے اور نورِ ایمانی بھی ہے

چار تنکے ہی نہیں ہیں اعتبارِ آشیاں

ہوشیار اے برق میری آنکھ میں پانی بھی ہے

کاوشیں ہی توڑ دیتی ہیں طلسمِ کائنات

غور کر ساغر کہ ہر مشکل میں آسانی بھی ہے


ساغر اجمیری

No comments:

Post a Comment