تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ تنہائی نہ پوچھ
کون تھا اس سارے افسانے میں ہرجائی نہ پوچھ
دل ہمارا ہے سمندر، اس کی گہرائی نہ پوچھ
اور اس گہرائی میں کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ
ہم نے چاہا تھا تمہیں کہ چاہتے تھے ہم تمہیں
اتنی سی ہی تو خطا تھی، اتنی رسوائی، نہ پوچھ
ایک تجھ سے آشنا ہونے سے دیکھو کیا ہوا
کتنے لوگوں سے ہوئی میری شناسائی نہ پوچھ
اک مسیحا کی محبت میں بہت گھائل ہوئے
وہ تدارک کو نہ آیا کچھ مسیحائی نہ پوچھ
موت کے منظر کو کوئی دیکھتا ہے غور سے
اُس کا کہنا؛ تجھ سے ملنے کو نہ آ پائی، نہ پوچھ
ایک میلہ ہے مِرے چاروں طرف گر دیکھیۓ
اک تِرے نا ہونے سے کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ
تھی خبر تجھ تک پہنچنے میں ہیں نا ہمواریاں
کیا خبر تھی اتنی ہوگی آبلہ پائی نہ پوچھ
عشق کا شعلہ جواں ہوتے ہی دل میں جل اٹھا
مسئلہ یہ ہے کہ کس نے آگ بھڑکائی، نہ پوچھ
دل نہ کوئی ٹوٹ جائے اس لیے خاموش ہوں
جھوٹ سے حاصل نہیں کچھ اور سچائی نہ پوچھ
جستجوئے نقص ہے شیوا مِرا نقاد میں
مجھ سے میرے اپنے بارے میں بھی اچھائی نہ پوچھ
زندگی کچھ کٹ گئی، کچھ کاٹ ہی لیں گے مگر
بِن تِرے کٹتی ہے کیسے، روح فرسائی نہ پوچھ
کوئی مخلص دوست، چارہ گر تو لاؤ ڈھونڈ کر
چاروں جانب دیکھو کتنے ہیں تماشائی نہ پوچھ
جو بھی گزری ہم نے بِن پوچھے بتا ڈالا ندیم
اس سے اچھا کیوں نہیں کہہ پائے ہم بھائی، نہ پوچھ
ندیم مراد
No comments:
Post a Comment