Thursday, 11 November 2021

کرتے رہے خطا پہ خطا بار بار ہم

 کرتے رہے خطا پہ خطا بار بار ہم

الفت میں میں ہو گئے ہیں جنوں آشکار ہم

کُھلنے لگے ریاضِ محبت کے ہم پہ در

روئے تھے آج رات فقط زار زار ہم

نو عمر اتنے جیسے کوئی ادھ کِھلا گلاب

دھول اتنی تجربات کی جیسے غبار ہم

کیسے لکھیں جنوں کی حکایاتِ خونچکاں

سینے میں ایک نعش ہے اور ہیں مزار ہم

ہم پر گزر گئے ہیں کئی سانحاتِ غم

زندہ ہیں کاٹ کر بھی شبِ انتظار ہم

تم عاشقی کو کھیل سمجھتے رہے ندیم

اور دل کا کھیل کھیل کے سینہ فگار ہم


ندیم مراد​

No comments:

Post a Comment