بیچ میں ٹوٹ گیا خواب ادھورا مجھ سے
زندگی پوچھ رہی ہے مِرا قصہ مجھ سے
میں نہیں تھا تو جہانِ دِگراں تھی دنیا
اور میں ہوں تو پریشان ہے دنیا مجھ سے
ایک میں ہوں کہ تجسم کسی نور کے ہوں
ایک صورت ہے کہ کرتی رہی پردا مجھ سے
کیا کہوں سچ ہے کہ جنت کا سزاوار ہوں میں
اب تو دیکھی نہیں جاتی ہے تِری دنیا مجھ سے
میں نے ساحل کی طرف مڑ کے نہیں دیکھا تھا
بس اسی بات پہ ناراض ہے دریا مجھ سے
شکیب ایاز
No comments:
Post a Comment