Thursday, 11 November 2021

راج ہر سو ہے اندھیروں کا ضیا پردے میں ہے

 راج ہر سو ہے اندھیروں کا ضیا پردے میں ہے

قافلہ جائے کہاں؟ اب رہنما پردے میں ہے

پھر یہ ہو گا آستینوں کا لہو چِلائے گا

ظلم کا جس کے ابھی تک تذکرہ پردے میں ہے

رات بھر جلنے کی ہم تدبیر کر لیتے میاں

ہم نے یہ جانا نہیں پاگل ہوا پردے میں ہے

کس لیے ہے ہر طرف ایٹم بموں کی واہ واہ

کیا ابھی ایٹم بموں کا تجربہ پردے میں ہے

کھیلتی تھی پردۂ زریں سے بادِ نو بہار

ہم نے یہ سمجھا کہ وہ جانِ حیا پردے میں ہے

حکم موسم کا ہوا ہے؛ توڑ کر لاؤ انہیں

جن گلابوں کی ابھی بُوئے وفا پردے میں ہے


اشرف یعقوبی

No comments:

Post a Comment