درد بھی دِکھتا ہے، خوشبو بھی نظر آتی ہے
دل میں ہو جذبہ تو یہ مٹی بھی نغماتی ہے
مسکراتا ہے ہر اک غنچہ و گل، ہوں جو خفا
ہولے ہولے سے صبا بھی مجھے بہلاتی ہے
یاد رہتا نہیں غم ہائے غریب الوطنی
کُونج جب اُڑتے ہوئے زور سے کُرلاتی ہے
یاد آتے ہیں مجھے دیس کے ساون بھادوں
بدلی پردیس کی تو آگ ہی برساتی ہے
زندگی سعئ مسلسل کا ہے اک دوسرا نام
نام میں رکھا ہے کیا، عمر تو ڈھل جاتی ہے
یہ لب و لہجہ، یہ اندازِبیاں اور یہ خیال
سچ کہوں، گر نہ برا مانو، روایاتی ہے
آج فرصت ہے تو آنکھوں میں نمی آئی ندیم
کب طبیعت تِری ہر روز ہی غزلاتی ہے
ندیم مراد
No comments:
Post a Comment