Friday, 12 November 2021

تم کو نہیں ہے یاد ابھی کل کی بات ہے

 تم کو نہیں ہے یاد ابھی کل کی بات ہے

باہم تھا اتحاد ابھی کل کی بات ہے

منزل تھی ایک جس پہ بہم گامزن رہے

بالکل نہ تھا تضاد ابھی کل کی بات ہے

اک روشنی تھی دل میں بہت پاک و صاف تھے

ایسا نہ تھا عناد ابھی کل کی بات ہے

بنیاد خود ہی آپ نے رکھی نفاق کی

شیر و شکر تھے شاد ابھی کل کی بات ہے

صحن چمن میں اپنے نظر تھی عجب بہار

تھا دور ابر و باد ابھی کل کی بات ہے


نظر برنی

No comments:

Post a Comment