Friday, 12 November 2021

ہم نے اپنی بے بسی بھی دیکھ لی

 ہم نے اپنی بے بسی بھی دیکھ لی

جبر کی دریا دلی بھی دیکھ لی

درد کی آنکھیں جھپکتی ہی نہ تھیں

زخم کی دیوانگی بھی دیکھ لی

پارہ پارہ وحشتوں کو کر دیا

ابر کی آوارگی بھی دیکھ لی

چھِن گیا پھر زندگانی کا سکوں

عشق کی وارفتگی بھی دیکھ لی

خار زاروں کو لہو نہلا دیا

خوشبوؤں کی دوستی بھی دیکھ لی

حبسِ دم نے معجزہ دِکھلا دیا

ابرِ باراں کی گلی بھی دیکھ لی

کر کے خوشبو کو کنول نے آب آب

خاک کی شرمندگی بھی دیکھ لی


ایم زیڈ کنول

No comments:

Post a Comment