گہوارۂ مرقد بھی صفی کام نہ آیا
آرام نہ آیا،۔ مجھے آرام نہ آیا
خورشید پہ موقوف نہیں سامنے تیرے
وہ کون ہے جو لرزہ بر اندام نہ آیا
صد شکر کہ پوچھا تو حشر میں مجھ سے
اک مست تغافل نے ذرا پھیر لی جو آنکھ
محفل میں جدھر ہم تھے، ادھر جام نہ آیا
وہ سب ہے صفؔی دائرۂ مرگ میں داخل
جو عمر کا حصہ کہ مِرے کام نہ آیا
صفی لکھنوی
No comments:
Post a Comment