Wednesday, 21 December 2016

گہوارہِ مرقد بھی صفی کام نہ آیا

گہوارۂ مرقد بھی صفی کام نہ آیا
آرام نہ آیا،۔ مجھے آرام نہ آیا
خورشید پہ موقوف نہیں سامنے تیرے
وہ کون ہے جو لرزہ بر اندام نہ آیا
صد شکر کہ پوچھا تو حشر میں مجھ سے
قاتل کا مگر یاد مجھے نام نہ آیا
اک مست تغافل نے ذرا پھیر لی جو آنکھ
محفل میں جدھر ہم تھے، ادھر جام نہ آیا
وہ سب ہے صفؔی دائرۂ مرگ میں داخل
جو عمر کا حصہ کہ مِرے کام نہ آیا

صفی لکھنوی

No comments:

Post a Comment