ادهر ڈهونڈتی ہے ادهر ڈهونڈتی ہے
مدینہ کو میری نظر ڈهونڈتی ہے
جہاں گم ہیں روح الامیں کے ترانے
مِری روح وہ رہگزر ڈهونڈتی ہے
صداقت کو صدیق کی ہے تمنا
حیا ہے ادهر رُوئے عثماں پہ صدقے
علی کو شجاعت ادهر ڈهونڈتی ہے
یہ جی چاہتا ہے وہیں اڑ کے پہنچوں
تمنا مِری بال و پر ڈهونڈتی ہے
بلائیں گے اقباؔل اک دن وہ در پر
جنہیں مدتوں سے نظر ڈهونڈتی ہے
اقبال صفی پوری
No comments:
Post a Comment