Wednesday, 21 December 2016

پرندو چلو لوٹ آؤ

پرندو چلو لوٹ آؤ

تمہیں یاد ہو گا
کہ، اک دن
تم اپنے درختوں کو
جب چھوڑ کر جا رہے تھے 
تو دریا نے اپنے ہی پانی سے
پانی نے دریا سے سرگوشیاں کیں

(مگر ، تم نے تب بھی پلٹ کر نہ دیکھا )
جب اس پار پہنچے
تو، دریا نہ پانی
فقط ریت ہی ریت تھی 
ریت کے اس سمندر سے اڑ کر
تم اپنی زمیں کی طرف
جب بھی آتے
تو اپنے پروں اور چونچوں میں
بس ریت بھر بھر کر لاتے
پرندو
تمہیں ریت کو
آبِ زر میں بدلنے کا
اک نسخۂ کیمیأ مل گیا ہے
اسی کے پروں پر
وہاں حیرتوں کے نئے آسمانوں میں
تم اڑ رہے ہو
مگر
اس زمیں پر
نیا ایک منظر ابھرنے لگا ہے
وہ شاخیں
کہ جن پر
بسیرا تمہارا کبھی تھا
وہ شاخیں پرندو
ہوا کے ذرا تیز جھونکے سے مل کر
کسی دوسرے پیڑ کی سمت جھکنے لگی ہیں
وہ پودے
جنہیں چھوڑ کر تم گئے تھے 
وہ اب پیڑ بننے لگے ہیں
وہ کلیاں بھی اب
پھول بن کر مہکنے لگی ہیں
(وہ بھنورے، جنہیں تم نے دیکھا نہیں)
ان کے اطراف منڈلا رہے ہیں
یہ منظر
تمہیں ڈھونڈتا ہے 
پرندو
چلو لوٹ آؤ 

غیاث متین

No comments:

Post a Comment