کلام رو رہا ہے
(فیض احمد فیض کے سانحۂ ارتہال پر ان کی یاد میں)
بھلے برے جو دن کٹے
وہ آبِ زر سے لکھ گیا
وہ جس کا پیرہن تھا
صرف کاغذی
وہ جس کے ہاتھ میں
صبا کا ہاتھ تھا
ورق ورق پہ جس کی
داستانِ شعر تھی رقم
جو روزنوں کی آنکھ سے
نزولِ صبح دیکھتا رہا
غروبِ شام بھی
جو کوہِ طور سے
پکارتا تھا
میں کلیم ہوں
کہاں گیا
وہیں جہاں
خیال جا سکے، نہ خواب جا سکے
وہیں
جہاں پہ ختم ہیں
گماں کے سارے راستے
وہیں
جہاں نہ دشت ہے
نہ رات ہے
وہیں
جہاں سے
اِک نئی حیات ہے
برأت ہے
یہاں رہا
تو اس کے پاس
پھول ہونٹ تھے
تو ہاتھ شمع تھے
یہاں رہا
تو اس کے پاس
رنگ پیرہن کے سارے جمع تھے
اجالا داغ داغ تھا
سحر کہ شب گزیدہ تھی
اور اس کے پاس
صرف ایک خواب تھا
بس ایک خواب
وہ خواب کیا
چراغ تھا
جسے لیے ہوۓ
وہ پھر رہا تھا
شہر شہر، کُو بہ کُو
وہ اب نہیں
تو پھول
ہونٹ بھی نہیں
تو ہاتھ
شمع بھی نہیں
بیاضِ رخ
نہ رنگِ پیرہن
نہ دشتِ ہجر ہے
کلام رو رہا ہے
اس کلیم کو
جو جاتے جاتے
یہ علامتیں بھی ساتھ لے گیا
کوئی جو دوسرا
انہیں چھوے
تو ہاتھ جل اٹھیں
نہیں مگر یہ سچ نہیں
کوئی جو دوسرا
انہیں لکھے
چراغ جل اٹھیں
غیاث متین
No comments:
Post a Comment