Wednesday, 21 December 2016

نقش ناتمام

نقشِ ناتمام

چھت پہ، دیواروں پہ، در پر
کھڑکیوں میں
میز و کرسی پر
کتابوں اور رسالوں میں
جدھر دیکھوں ادھر
ایک تصویرِ حنا
ایک سایہ، ایک عکس
ایک نقشِ ناتمام
یوں ابھرتا ہے سدا
جیسے ہو میرا خدا

غیاث متین

No comments:

Post a Comment