پا لیا جو پانا تھا،۔ کیا بتائیں کیا پایا
نقدِ ناروا پایا،۔ بختِ نارسا پایا
دلربا نے دل پایا، دل نے دلربا پایا
کھو کے دل یہ خوش ہیں ہم جیسے کچھ پڑا پایا
ضبط کی کوئی حد ہے،۔ انتہا تحمل کا
تم سے ہم نہ کہتے تھے کیوں وہی ہوا آخر
توڑ کر کسی کا دل،۔ یہ بتاؤ کیا پایا
ڈھونڈتے صفؔی کل تھے گم کئے ہوۓ دل کو
کہیے کچھ خبر پائی،۔ کہیے کچھ پتا پایا
صفی لکھنوی
No comments:
Post a Comment