Friday, 16 July 2021

پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے

 پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے

مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے

اس انقلاب کی بھی کوئی حد ہے دوستو

نا آشنا سمجھتے ہیں اب آشنا مجھے

کشتی پہنچ سکے گی یہ تا ساحلِ مراد

دھوکا نہ دے خدا کے لیے نا خدا مجھے

وہ طولِ عمر جس میں نہ ہو لطفِ زندگی

مل جائے مثلِ خضر تو کیا فائدہ مجھے

دوں تیرا ساتھ عمرِ رواں کس طریق سے

آنکھیں دکھا رہے ہیں تِرے نقشِ پا مجھے

تخلیقِ کائنات کو سوچا کیا، مگر

کچھ ابتدا ملی نہ صفی انتہا مجھے


صفی لکھنوی

No comments:

Post a Comment