Wednesday, 21 December 2016

مہربان تو نے وہ انداز نظر چھوڑ دیا

مہربان تُو نے وہ انداز نظر چھوڑ دیا
ہم نے اس واسطے آنا ہی ادھر چھوڑ دیا
ہم نے اے بے خبری! تجھ پہ تو گھر
تُو نے غیروں کا ہمیں دست نگر چھوڑ دیا
چیختے چیختے بلبل نے ذرا دم جو لیا
اک نیا تُو نے شگوفہ گلِ تر چھوڑ دیا
اس قدر نالۂ شب گیر سے عاجز آئے
رفتہ رفتہ میرے ہمسایوں نے گھر چھوڑ دیا
ہے صفؔی گوشۂ مرقد میں ہمارا بھی خدا
غم نہیں ساتھ احبّاء نے اگر چھوڑ دیا

صفی لکھنوی

No comments:

Post a Comment