مہربان تُو نے وہ انداز نظر چھوڑ دیا
ہم نے اس واسطے آنا ہی ادھر چھوڑ دیا
ہم نے اے بے خبری! تجھ پہ تو گھر
تُو نے غیروں کا ہمیں دست نگر چھوڑ دیا
چیختے چیختے بلبل نے ذرا دم جو لیا
اس قدر نالۂ شب گیر سے عاجز آئے
رفتہ رفتہ میرے ہمسایوں نے گھر چھوڑ دیا
ہے صفؔی گوشۂ مرقد میں ہمارا بھی خدا
غم نہیں ساتھ احبّاء نے اگر چھوڑ دیا
صفی لکھنوی
No comments:
Post a Comment