دیکھا جہان گھوم کے تجھ سا نہیں کہیں
پرتَو ترے جمال کا، گو ہے کہیں کہیں
جنت میں ایک ساتھ تھے یا بر زمیں کہیں
دیکھا تجھے ضرور ہے اے مہ جبیں کہیں
خود کو میں ساتھ ساتھ لیے گھومتا ہوں کیا؟
چھوڑا تھا جس جگہ مجھے ڈھونڈو وہیں کہیں
کہتے ہیں؛ اہلِ عشق تو مرتے نہیں کبھی
پھرتے ہیں دشت، قیس بھی ہو گا یہیں کہیں
بے بندگی کا دل پہ رہے گا مرے وبال
جھک جائے دل کہیں تو جھکاؤں جبیں کہیں
بوسے کا ہو سوال تو ملتا ہے یوں جواب
دیتے ہیں کیا کرایہ بھی دل کے مکیں، کہیں
شہزاد احمد شاذ
No comments:
Post a Comment