Saturday, 8 January 2022

عطائے ذوالجلال ہے تو پیکر جمال ہے

 حور


عطائے ذوالجلال ہے

تُو پیکرِ جمال ہے

کُھلی ہوئی کتاب ہے

تُو حسنِ بے حجاب ہے

شگفتگی ہے پھول کی

تُو اُمتی رسولؐ کی

یہ گل نشین تتلیاں

یہ دل فریب مستیاں

یہ سرمگیں سی روشنی

یہ چاندنی سی تیرگی

بہت شریر سادگی

کبھی اداس زندگی

تِری غلام، شوخیاں

کہ زرخرید باندیاں

رواں ہے آبشار سی

حسیں ہے خوابشار سی

ہے نور نور ہر گلی

مہک رہی کلی کلی

طمانیت لحاف کی

پری ہے کوہ قاف کی

تُو انتہا یقین کی

مہک ہے یاسمین کی

تُو میرجا کی صاحبہ

عفیف ایک راہبہ

بھلا سا تیرا روپ ہے

تُو سردیوں کی دھوپ ہے

نگاہ سیر آب ہو

جو محو، یہ سراب ہو

مچل رہی جوانیاں

کہ پک گئیں خوبانیاں

جوان ایک خواب ہے

حسین اک گلاب ہے

دھنک میں تیرا رنگ ہے

فضاؤں میں امنگ ہے

تُو مثل ہے زبور کی

شعاع ایک نور کی

خدا کا معجزہ ہے تُو

مِرے لیے بنا ہے تُو

تُو آسماں کا نیل ہے

سفر حسیں، طویل ہے

تُو لے ہے ایک گیت کی

تُو اک خوشی ہے جیت کی

ملائمت ہے روئی کی

مثال چھوئی موئی کی

نگاہ کا سرور ہے

خداؤں کا غرور ہے

قیاس سے قرین ہے

تو حسن آفرین ہے

تُو حور آسمان کی

لوچ ہے کمان کی


خواجہ ثقلین

No comments:

Post a Comment