Tuesday, 5 April 2022

زمانہ یہ کیسا برا آ گیا

 زمانہ یہ کیسا برا آ گیا

کہ وقت امتحاں کا کڑا آ گیا

بشر نے ستم کی حدیں توڑ دیں

رحم دل میں کچھ نہ ذرا آ گیا

ہے دل اور زباں میں یہاں فاصلے

یہ کیسا نفاق ہے چلا آ گیا

عقیدت خدا سے دکھانے کو یاں

وہ بستی کا بستی جلا آ گیا

رہِ ظلم کا جو بھی راہی ہوا

برائی کا ہر در کُھلا آ گیا

دبائے جو ناحق غریبوں کا حق

وہ دوزخ کو اپنی بسا آ گیا

درِ توبہ کیسے کُھلے گا اسے

جو دل کو کسی کے دُکھا آ گیا

زمانے کو حیدر بدل کے دکھا

زباں سے تو کہنا بڑا آ گیا


جواد حیدر

No comments:

Post a Comment