زمانہ یہ کیسا برا آ گیا
کہ وقت امتحاں کا کڑا آ گیا
بشر نے ستم کی حدیں توڑ دیں
رحم دل میں کچھ نہ ذرا آ گیا
ہے دل اور زباں میں یہاں فاصلے
یہ کیسا نفاق ہے چلا آ گیا
عقیدت خدا سے دکھانے کو یاں
وہ بستی کا بستی جلا آ گیا
رہِ ظلم کا جو بھی راہی ہوا
برائی کا ہر در کُھلا آ گیا
دبائے جو ناحق غریبوں کا حق
وہ دوزخ کو اپنی بسا آ گیا
درِ توبہ کیسے کُھلے گا اسے
جو دل کو کسی کے دُکھا آ گیا
زمانے کو حیدر بدل کے دکھا
زباں سے تو کہنا بڑا آ گیا
جواد حیدر
No comments:
Post a Comment