کانچ کی چادر سب کے پاس ہے
آج یہی سب کا لباس ہے
ہم نے صبر کے گھونٹ پی لیے
کیا تلخی ہے، کیا مٹھاس ہے
ندی نہیں دو اشک چاہئیں
ہم میں اک مُفلس کی پیاس ہے
کسی پیڑ پر نہیں چاندنی
مَن پنچھی کتنا اُداس ہے
آج کا ٹھٹھرا ہوا آدمی
اوڑھے ہوئے خوف و ہراس ہے
سونپ دئیے سب غم قتیل کو
قسمت کیا مردم شناس ہے
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment