Tuesday, 5 April 2022

کانچ کی چادر سب کے پاس ہے

 کانچ کی چادر سب کے پاس ہے

آج یہی سب کا لباس ہے

ہم نے صبر کے گھونٹ پی لیے

کیا تلخی ہے، کیا مٹھاس ہے

ندی نہیں دو اشک چاہئیں

ہم میں اک مُفلس کی پیاس ہے

کسی پیڑ پر نہیں چاندنی

مَن پنچھی کتنا اُداس ہے

آج کا ٹھٹھرا ہوا آدمی

اوڑھے ہوئے خوف و ہراس ہے

سونپ دئیے سب غم قتیل کو

قسمت کیا مردم شناس ہے


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment