ستم کی آگ جہاں سے بجھا بجھا کے چلو
جہاں میں امن کی شمعیں جلا جلا کے چلو
قلم دوات کے ہتھیار دے کے بچوں کو
ستمگروں کو ہمیشہ ہرا ہرا کے چلو
چراغ بن کے جہاں سے مٹاؤ ظلمت کو
بھٹکنے والوں کو رستہ دکھا دکھا کے چلو
عناد و بغض کے صحرا میں کب تلک جی لیں
محبتوں کے چمن کو بسا بسا کے چلو
کرو شریک سبھی کو سرور میں اپنے
انا کے بت کو دلوں سے گرا گرا کے چلو
جو دیکھو راہِ محبت میں خار نفرت کے
چلو جو راہ تو ان کو ہٹا ہٹا کے چلو
جہاں میں آگ لگی ہے فساد اور شر کی
چلو جو راہ تو دامن بچا بچا کے چلو
وفا کی قحط سے چہرے سبھی ہیں مُرجھائے
وفا کے پھول کو پانی پلا پلا کے چلو
بھلا دیا ہے بشر نے وفا کی عظمت کو
سبق جہاں کو وفا کا پڑھا پڑھا کے چلو
مٹاؤ ظلم و ستم کی ہر ایک نشانی کو
جہاں میں امن کا پرچم اٹھا اٹھا کے چلو
اذانِ امن و محبت جہاں میں دے دے کر
میرے پیام کو حیدر سنا سنا کے چلو
جواد حیدر
No comments:
Post a Comment