Tuesday, 4 January 2022

ظالم تاک میں بیٹھے ہیں ہر بستی کے ہر کونے میں

 ظالم تاک میں بیٹھے ہیں ہر بستی کے ہر کونے میں

ذبح کئے جاتے ہیں قاتل، مظلوموں کو سوتے میں

مار کے خوش ہو جاتے ہیں بے دردی سے انسانوں کو

یہ قاتل جتنے سارے ہیں، کچھ رحم نہیں ہے سینے میں

قاتل چھین کے لے جاتے ہیں، کلیاں جلدی جلدی میں

مائیں آس لگاتی ہیں،۔ بچوں کا رستہ تکنے میں

ساتھ لیے پھرتے ہیں قاتل سڑکوں پر ہتھیاروں کو

دم خم پھر بھی کوئی نہیں پولیس کے کچے ناکے میں

چور، لٹیرے، حاکم، ظالم سب ملے ہیں اندر سے

ظالم کو جو ٹوکے اس کی شب گزرے کی تھانے میں

ٹارگٹ کرنے والے قاتل، ظلم میں اتنے ماہر ہیں

ڈال دیتے ہیں لاش کو پہلے بوری میں، پھر نالے میں

عصر ہے ظالم لوگوں کا، یاں راج کرے ہے طاقتور

کٹتے ہیں لوگوں کے دن، حالات پہ رونے دھونے میں

سِکہ دور میں چلتا ہے بس طاقت کا، بس قدرت کا

کمزوروں کی خیر نہیں، وہ دیکھیں ڈرامے کمرے میں

ظلم کے سر پر سینگ نہیں، یہ کچھ کچھ ملّا لگتے ہیں

معصوم سےبھولے بھالے سے، معصوم سے چہرے دیکھنے میں

ظالم حاکم مست ہے اپنی دو دن کی عیاشی میں

قتل سے بچنے والے اب تو مر جاتے ہیں بھوکے میں

حاکم کو کیا پرواہ ہے، لوگوں کے گھر جو فاقے ہیں

اپنے آپ ہی مر جائیں گے، گیس نہیں ہے چولہے میں

پڑے ضرورت جب ان کو بڑھ بڑھ کر وعدے کرتے ہیں

یہ کیسے حاکم ہیں ان کے، اخلاص نہیں ہے وعدے میں

قوم کو قربانی کا کہہ کر، نو دو گیارہ ہوتے ہیں

یورپ کے، امریکہ کے، مصروف ہیں حاکم دورے میں

ظلم کے قصے زیادہ ہیں ان قاتل اور ان حاکم کے

لکھ کر شاید ختم نہ ہو جو دکھ ہیں ہمارے سینے میں

مل کے کرو گے جہدِ مسلسل، ظلم پہ غالب آؤ گے

ڈٹ کے رہو کچھ، زور نہیں ہے ظلم کے کچے دھاگے میں

مل کر دو اب زور کا دھکا، ظلم کی ان دیواروں کو

پھینکو اب نفرت سے تم، ظالم کو گندے کچرے میں

جو عاقل، عادل، سچے ہیں بس ووٹ انہی کو دینا ہے

جھوٹے حاکم ظالم جو ہیں، رکھ دو ان کو گوشے میں

ظلم و ستم کو مہلت نا دو، عزم کرو اور آگے بڑھو

جان لو کوئی رنگ نہیں ہے، ظلم کے پھیکے چونے میں

مجرم جو ہیں ان کو چڑھا بے خوفی سے تم سُولی پر

امن ہی پھر سے راج کرے گا، ملک کے گوشے گوشے میں

مٹ جائے گی ظلم کی سیاہی، عدل کا سورج اُبھرے گا

شک کی گنجائش ہی نہیں، اللہ کے سچے وعدے میں

آنکھیں کھولو، عقل سے سوچو، پڑھ لو اللہ کا فرمان

جانو گے تم، نہیں حقیقت کُفر کے گندے فتوے میں

ایک اللہ اور ایک نبیﷺ کے ماننے والے سب حیدر

دنیا کے جس کونے میں ہوں بھائی ہیں سب رشتے میں


جواد حیدر

No comments:

Post a Comment