Thursday, 13 July 2023

کوئی زندگی تھی گمان سی

 کوئی زندگی تھی گمان سی

کیا کوئی خبر آئے

زندگی کے ترکش میں

جتنے تیر باقی تھے

میری بے دھیانی سے

دل کی خوش گمانی سے

ساز باز کرتے ہی

روح میں اتر آئے

دھند اتنی گہری ہے

کچھ پتا نہیں چلتا

خواب کے تعاقب میں

کون سے زمانوں سے

کتنے آسمانوں سے

ہم گزر کے گھر آئے

فصل گل کی باتیں بھی

اب کہاں رہیں ممکن

عمر کی کہانی میں

ایسی بے زمینی میں

ایسی لا مکانی میں

صرف اتنا ممکن ہے

دھڑکنوں کی گنتی میں

اگلا موڑ مڑتے ہی

آخری سفر آئے


ناہید قمر

No comments:

Post a Comment