خدا تو تھا مگر جلوہ نہیں تھا
تھا طُور اب کے مگر موسیٰ نہیں تھا
یہ پتہ پتہ یوں سہما نہیں تھا
یہ موسم کل تلک ایسا نہیں تھا
بِالآخر وقت مجھ پر آ پڑا وہ
مِرے پیچھے مِرا سایہ نہیں تھا
وہی صورت نگاہوں میں تھی ہر سُو
جسے ہم نے ابھی دیکھا نہیں تھا
سفر سے لوٹ کر میں نے یہ دیکھا
مِرا چہرہ مِرا چہرہ نہیں تھا
جِسے کھویا اسے کھویا تھا بے شک
جسے پایا اسے پایا نہیں تھا
اسی کو پڑھتے رہتے تھے ہمیشہ
جسے ہم نے ابھی لکھا نہیں تھا
میں اپنے ساتھ تھا بیتاب ہر پل
میں اپنے آپ میں تنہا نہیں تھا
پرتپال سنگھ بیتاب
No comments:
Post a Comment