Thursday, 13 July 2023

مزا صوفی کا پائل کی چھنک سے

 مزہ صوفی کا پائل کی چھنک سے

سکوں میرا ہے ساغر کی کھنک سے

الگ ہوتا نہیں آٹا نمک سے

زمیں کا ربط ایسا ہے فلک سے

بچارہ رزق کی ہے جستجو میں

خبر جگنو نہیں اپنی چمک سے

کسی دن آرزو مقبول ہوگی

نہیں مایوس دل اپنی للک سے

بھلا وہ مُشکِ گیسُو کیا سہارے

اُڑے ہوں ہوش آنچل کی مہک سے

حرارت دل میں ہو تو ٹوٹتا نئیں

تپا شیشہ نہیں خالی لچک سے

تِرے ہونے سے ہیں رنگیں مناظر

نظر آتے ہیں دلکش یہ دھنک سے

سماعت گوش بر آواز ہو تو

صدائےکُن ہےغنچوں کی چٹک سے

حلاوت آفریں لمحوں میں رہنا

ضیا نے پا لیا دل کی کسک سے


امین ضیا

No comments:

Post a Comment