مزہ صوفی کا پائل کی چھنک سے
سکوں میرا ہے ساغر کی کھنک سے
الگ ہوتا نہیں آٹا نمک سے
زمیں کا ربط ایسا ہے فلک سے
بچارہ رزق کی ہے جستجو میں
خبر جگنو نہیں اپنی چمک سے
کسی دن آرزو مقبول ہوگی
نہیں مایوس دل اپنی للک سے
بھلا وہ مُشکِ گیسُو کیا سہارے
اُڑے ہوں ہوش آنچل کی مہک سے
حرارت دل میں ہو تو ٹوٹتا نئیں
تپا شیشہ نہیں خالی لچک سے
تِرے ہونے سے ہیں رنگیں مناظر
نظر آتے ہیں دلکش یہ دھنک سے
سماعت گوش بر آواز ہو تو
صدائےکُن ہےغنچوں کی چٹک سے
حلاوت آفریں لمحوں میں رہنا
ضیا نے پا لیا دل کی کسک سے
امین ضیا
No comments:
Post a Comment