وقفِ گردِ سفر نہیں لگتا
تُو میرا راہبر نہیں لگتا
جن کی آنکھوں میں خواب زندہ ہوں
اُن کو مرنے سے ڈر نہیں لگتا
مجھ سے پوچھو سلوک اپنوں کا
مجھ کو سانپوں سے ڈر نہیں لگتا
پاس رہ کر بھی حالِ دل سے وہ
کیوں مجھے باخبر نہیں لگتا
کس مسرت سے غم سنبھالے ہیں
تجھ کو یہ بھی ہُنر نہیں لگتا
زریں منور
No comments:
Post a Comment