فرازِ عشق! تیری انتہا نہیں ہوئے ہم
کسی پہ قرض تھے لیکن ادا نہیں ہوئے ہم
تیری گلی کے سوا اور کیا "ٹھکانا" ہے؟
یہیں ملیں گے، اگر لاپتہ نہیں ہوئے ہم
تمہارے بعد بڑا "فرق" آ گیا ہم میں
تعلقات میں شرطیں کبھی نہیں رکھیں
کبھی کسی کے لیے مسئلہ نہیں ہوئے ہم
ابھی ہماری "محبت" نہیں "کھلی" تم پر
ابھی تمہارے مرض کی دوا نہیں ہوئے ہم
شکیل جمالی
No comments:
Post a Comment