Thursday, 6 August 2020

شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے
کیسا عاشق ہے تِرے نام پہ قرباں ہے مگر
تیری ہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے
ہم کو جکڑا ہے یہاں جبر کی زنجیروں نے
اب تو یہ شہر ہی "زندان" ہوا پھرتا ہے
شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہیں جس سے
صبح" وہ "صاحبِ ایمان" ہوا پھرتا ہے"
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کے
شہر" کا شہر "مسلمان" ہوا پھرتا ہے"

جلیل حیدر

No comments:

Post a Comment