Thursday, 6 August 2020

ناخدا سخت خفا گرچہ ہمیں پر تھے بہت

ناخدا سخت خفا گرچہ ہمیں پر تھے بہت
ہم نے بھی عزم کے پہنے ہوئے زیور تھے بہت
‏تُو نے دستک ہی نہیں دی کسی دروازے پر
ورنہ کھلنے کو تو دیوار میں بھی در تھے بہت
اڑ نہیں پایا، اگرچہ یہ فضا بھی تھی کھلی
میرے اندر سے مجھے جکڑے ہوئے ڈر تھے بہت
جیت تیرا ہی مقدر تھی،۔ سو تُو جیت گیا
خام تھی پیاس تِری ورنہ تو اس دشت میں  بھی
ایک ایڑی کے رگڑنے پہ سمندر تھے بہت
ورنہ ہارے ہوئے لشکر میں سکندر تھے بہت
وقت کی "موج" ہمیں "پار" لگاتی کیسے؟
ہم نے ہی جسم سے باندھے ہوئے پتھر تھے بہت

جلیل حیدر

No comments:

Post a Comment