درد کی اس شدت میں شریانوں کی خیر
یادیں، اور یادیں بھی ان شاموں کی خیر
کسی "بہانے" اس کا فون تو آیا ہے
شہر میں اڑنے والی افواہوں کی خیر
خیر و شر سے ہٹ کر بھی اک دنیا ہے
میں نے ان سے ہٹ کر راہ نکالی ہے
رستہ روکنے والی دیواروں کی خیر
ڈھیر محبت کرنے والوں کے صدقے
مٹھی بھر نفرت کرنے والوں کی خیر
فریحہ نقوی
No comments:
Post a Comment