Thursday, 6 August 2020

ہم ایک شہر میں جب سانس لے رہے ہوں گے

ہم ایک شہر میں جب سانس لے رہے ہونگے
ہمارے بیچ زمانوں کے فاصلے ہوں گے
وہ چاہتا تو یہ حالات ٹھیک ہو جاتے
بچھڑنے والے سبھی ایسا سوچتے ہوں گے
یہ بے بسی سے تِری راہ دیکھنے والے
گئے دنوں میں تِرے خواب دیکھتے ہوں گے
"کہا بھی تھا کہ؛ "زیادہ قریب مت آؤ
بتایا تھا کہ تمہیں مجھ سے مسئلے ہوں گے
وہی صفات و خصائل ہیں اور وہی لہجے
یہ لوگ پہلے کبھی بھیڑیے رہے ہوں گے

فریحہ نقوی

No comments:

Post a Comment