Monday, 5 December 2016

ذہن و دل میں کچھ نہ کچھ رشتہ بھی تھا

ذہن و دل میں کچھ نہ کچھ رشتہ بھی تھا
اے محبت! میں کبھی یکجا بھی تھا
مجھ میں اک موسم کبھی ایسا نہ تھا
ایسا موسم جس میں تُو مہکا بھی تھا
کج کلاہوں پر کہاں ممکن ستم
ہاں مگر اس نے مجھے چاہا بھی تھا
آج خود سایہ طلب ہے وقت سے
یہ وہی گھر ہے کہ جو سایہ بھی تھا
جانے کس صحرائے غم میں کھو گیا
ہائے وہ آنسو، کہ جو دریا بھی تھا

امید فاضلی

No comments:

Post a Comment