ہم برے ہیں بھی تو ہر دل میں اتر جاتے ہیں
دشمنوں کو بھی دعا دے کے گزر جاتے ہیں
سب ہمارے ہیں ہمیں بھی کوئی اپنا سمجھے
کہہ نہیں سکتے مگر سوچ کے ڈر جاتے ہیں
اور کیا دو گے چلو زخم ہی سی لیں مل کر
اپنی چوکھٹ پہ ٹھٹک جاتے ہیں دستک کی طرح
اپنے آنگن میں بھی مانندِ سحر جاتے ہیں
جب کبھی وہ نہیں دیتا ہے ہمیں اذنِ سفر
لے کے ہم کاسۂ اوصافِ ہنر جاتے ہیں
دیکھنے والے تجھے دیکھ کے جی لیتے ہیں
چاہنے والے تجھے دیکھ کے مر جاتے ہیں
ہم کو اقبال متینؔ، اتنا بتاتے جانا
کب تِری آنکھوں سے اشکوں کے شرر جاتے ہیں
اقبال متین
No comments:
Post a Comment