Friday, 16 July 2021

بے خیالی ہے کچھ خیال نہیں

بے خیالی ہے کچھ خیال نہیں

اب غم جاں کا بھی ملال نہیں

دن نکلتا ہے، اور ڈھلتا ہے

ہے غلط دوستو زوال نہیں

زندگی غم تِری امانت ہے

تجھ سے میرا کوئی سوال نہیں

دوستوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا

جیب میں جب سے میری مال نہیں

حسن والے بہت ہیں دنیا میں

آپ جیسا مگر جمال نہیں

شاعری اپنا مشغلہ ہے خطیب

راحت جاں ہے یہ وبال نہیں


عبدالصمد خطیب

No comments:

Post a Comment