Thursday, 10 December 2020

ایک چھوٹی سی مغموم کھڑکی

 چھوٹی سی کھڑکی

مختصر کمرے کی

ایک چھوٹی سی مغموم کھڑکی

کبھی دیکھتی ہے جو باہر کی دنیا

اداسی بہت بڑھ جاتی ہے اس کی

مگر سامنے کے ہرے لان کے پھول

چمپا چمیلی گلاب اور بیلا کی پوشاک

پہنے ہوئے مسکراتے ہوئے

رنگ و خوشبو کے لہجے میں اس کو

سناتے ہیں معصوم لمحوں کا قصہ

ہتھیلی پہ پھر انہی معصوم لمحوں کی

تحریر کرتی ہے دلکش ہنسی

ایک چہکار کوئل کی

اور جب محبت کی انگلی نزاکت سے تھامے

خراماں خراماں

انوکھا سا اک پھول اس لان پر

میر کے شعر کہ پنکھڑی چننے لگتا ہے

تب وقت کے قہقہوں کا

بہت خوشنما سلسلہ

ٹھہر جاتا ہے

اس مختصر کمرے کی

چھوٹی سی کھڑکی میں


جعفر ساہنی

No comments:

Post a Comment