Thursday, 10 December 2020

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث

آج سے تیری جستجو ہے عبث

سادگی میں ہے لاکھ لاکھ بناؤ

آئینہ تیرے روبرو ہے عبث

مجھ کو دونوں سے کچھ مزا نہ ملا

دل عبث دل کی آرزو ہے عبث

باد آب آگ خاک گرد روح

زشت‌ رویوں میں خوبرو ہے عبث

طور‌ و موسیٰ ہیں ذرہ ذرہ میں

کب ترا جلوہ چار سو ہے عبث

لپٹے ہیں خواب میں وہ دشمن سے

ہاتھ یاں زینت گلو ہے عبث

واہ مائل خودی میں ذکر انا

چپ رہو تم یہ گفتگو ہے عبث


احمد حسین مائل 

No comments:

Post a Comment