مجھ کو جس پر گماں ہے الفت کا
کھیل ہو گا تِری سیاست کا
کس طرح غیر کا میں ہونے دوں
مسئلہ ہے یہ میری عزت کا
غیر سے رسم و راہ کا دعویٰ
آخری داؤ ہے محبت کا
آپ سے کچھ نہ ہو سکا لیکن
شائبہ کچھ تو ہو ندامت کا
جن کو تقدیر پر نہیں قدرت
فیصلہ کر رہے ہیں قسمت کا
یہ کسی اور کا نہ ہونے دے
کیا کروں تجھ سے اپنی نسبت کا
اس کو وہ سچ نہ مان لیں بشریٰ
پوچھ بیٹھے ہیں گر اجازت کا
بشریٰ خلیل
No comments:
Post a Comment