امیدِ سحر، یا غمِ شب کچھ بھی نہیں ہے
ہم جی رہے ہیں اور سبب کچھ بھی نہیں ہے
اس شہر میں کیا کچھ نہیں تھا جنگ سے پہلے
پر خالی گھروں کے سوا اب کچھ بھی نہیں ہے
مجھ میں جو اندھیرا ہے اگر تم کو دکھا دوں
تم چیخ پڑو اور کہو، شب کچھ بھی نہیں ہے
یہ سچ ہے ادھورا ہوں میں تیرے سوا، لیکن
یہ بات بھی سچ ہے کہ تو سب کچھ بھی نہیں ہے
حیران نہ ہو دیکھ کے مجھ کو کہ یہی حال
ہوتا ہے محبت میں عجب کچھ بھی نہیں ہے
حذیفہ ہارون
No comments:
Post a Comment