Wednesday, 3 November 2021

یہ تو اچھا ہے کہ دکھ درد سنانے لگ جاؤ

 یہ تو اچھا ہے کہ دکھ درد سنانے لگ جاؤ

ہر کسی کو نہ مگر زخم دکھانے لگ جاؤ

نیل کے پانیو! رستے میں نہ حائل ہونا

کیا پتہ ضرب کلیمیؑ سے ٹھکانے لگ جاؤ

کتنی مشکل سے تو آئے ہو ذرا ٹھہرو بھی

سہل انداز میں اس طرح نہ جانے لگ جاؤ

سامنے آؤ تو جیسے کہ گلِ تر کوئی

اور تنہائی میں پھر اشک بہانے لگ جاؤ

موسم دل جو کبھی زرد سا ہونے لگ جائے

اپنا دل خون کرو، پھول اگانے لگ جاؤ

عقل سمجھائے تو کچھ لاج رکھو اس کی بھی

جب جنوں تیز ہو تو خاک اڑانے لگ جاؤ

کبھی تنہائی میں بیٹھو تو فقط روتے رہو

پھر اچانک ہی کبھی ہنسنے ہنسانے لگ جاؤ

بوجھ دل پر ہے ندامت کا تو ایسا کر لو

میرے سینے سے کسی اور بہانے لگ جاؤ


کوثر مظہری

No comments:

Post a Comment