مجھ سے ستم کشی کا ہنر چھین رہا ہے
یہ کون مجھ سے میرا صبر چھین رہا ہے
یہ کس سے میری اتنی عداوت ہے یا خدا
جو میری دعاؤں کا اثر چھین رہا ہے
یہ کون میری بات کا مفہوم بدل کر
لفظوں سے میرے زیر و زبر چھین رہا ہے
ہے کس کو خیالات کی پرواز کھٹکتی
یہ کون مِری سوچ کے پر چھین رہا ہے
یہ شعورِ آگہی تو مالک کی دین ہے
کیوں دامنِ وجداں سے فکر چھین رہا ہے
ہونٹوں کی ہنسی چھین کے رونے نہیں دیتا
کیوں آنکھ سے اشکوں کے گُہر چھین رہا ہے
ظُلمت کی شدتوں سے ڈراتا ہے کیوں مجھے
شبِ غم سے کیوں نویدِ سحر چھین رہا ہے
پھیلا کے مِرے چار سو مایوس اندھیرے
کیوں مجھ سے اُمیدوں کا ثمر چھین رہا ہے
نفرت بھری تمازتیں آنگن کو سونپ کر
یہ کون محبت کے شجر چھین رہا ہے
ہے کون جو منزل پہ پہنچنے نہیں دیتا
پیروں سے میرے راہگزر چھین رہا ہے
راہبر بھی راہزنی کا ہنر سیکھ چکے ہیں
ورنہ یہ کون زادِ سفر چھین رہا ہے
جبرِ امیرِ شہر کا شاہد کوئی نہ ہو
اب کے زباں کے ساتھ نظر چھین رہا ہے
یہ کون ستم پرور آیا میری بستی میں
آنچل کے ساتھ ساتھ جو سر چھین رہا ہے
یہ کس نے مِرے شہر کو مقتل بنا دیا
ہاتھوں سے میرے کون سِپر چھین رہا ہے
قصرِ امیرِ شہر بھی کیا تنگ پڑ گئے
کیونکر غریبِ شہر سے گھر چھین رہا ہے
دل سے سکون آنکھوں سے نیندیں چُرا کے فرحت
یہ کون تیرا خواب نگر چھین رہا ہے؟
فرحت شکور
No comments:
Post a Comment