کوئی ہم سفر کسی کا کوئی ہم نوا نہ تھا
اُس شہرِ سنگ زاد میں کوئی آشنا نہ تھا
سارا ہی شہرِ سنگدل تھا محرومِ عاجزی
کوئی حرفِ التجا کوئی دستِ دُعا نہ تھا
مجھ کو دیارِ جاناں میں کوفے کا گماں گزرا
حالانکہ کوئی سانحۂ کربلا نہ تھا
مجھ کو کسی کی رہبری حاصل نہ ہو سکی
اس سفرِ زندگی میں کوئی رہنما نہ تھا
اس واسطے قفس کو مقدر سمجھ لیا
اس دَر سے لوٹنے کا کوئی راستہ نہ تھا
لینے کو سانس بخشی مجھے محبوس فضائیں
کوئی سحاب ، کوئی بھی نقشِ صبا نہ تھا
بادِ سموم چلتی رہی ساتھ عمر بھر
جھلسے ہوئے بدن میں سکوں جھانکتا نہ تھا
کیوں کر نہ بے اماں مجھے کرتا امیرِ شہر
کوئی حق شناس شہر میں میرے سوا نہ تھا
اس نے مجھے زمانے میں یوں در بدر کیا
جس کے بغیر میرا کوئی آسرا نہ تھا
تو کیوں بھرے جہان میں بے خانماں رہی
فرحت بتا کیا تیرا کوئی خدا نہ تھا
فرحت شکور
No comments:
Post a Comment