چاہت کا چھلکا پیمانہ بات کرو
دل یہ تمہارا ہے دیوانہ بات کرو
محفل میں تم گم سم ہو کر بیٹھ گئے
لوگ یہ سمجھیں گے بیگانہ بات کرو
اپنی دھن میں رہنا میری فطرت ہے
لیکن مجھ سے تم روزانہ بات کرو
چائے تو گھر بیٹھے بھی پی سکتے تھے
یہ تو ہے ملنے کا بہانہ بات کرو
کب سے جاگ رہی ہوں جان مسلسل میں
ڈھونڈ رہی ہے نیند ٹھکانا بات کرو
بیٹھ کے مجھ کو دیکھے جاتے ہو پاگل
چھوڑ بھی دو اب یہ مسکانا بات کرو
چھوڑ نہ دو تم خوف یہ کھائے جاتا ہے
خوف مٹا دو یہ انجانا بات کرو
پیار کی بستی کے دستور بھی سمجھو تم
ورنہ میں لوں گی ہرجانہ بات کرو
آپ جناب کی چھوڑو کاجل یہ تکرار
رہنے دو اب یہ فرمانا بات کرو
سمیرا سلیم کاجل
No comments:
Post a Comment