Monday, 19 July 2021

چاہت کا چھلکا پیمانہ بات کرو

 چاہت کا چھلکا پیمانہ بات کرو

دل یہ تمہارا ہے دیوانہ بات کرو

محفل میں تم گم سم ہو کر بیٹھ گئے

لوگ یہ سمجھیں گے بیگانہ بات کرو

اپنی دھن میں رہنا میری فطرت ہے

لیکن مجھ سے تم روزانہ بات کرو

چائے تو گھر بیٹھے بھی پی سکتے تھے

یہ تو ہے ملنے کا بہانہ بات کرو

کب سے جاگ رہی ہوں جان مسلسل میں

ڈھونڈ رہی ہے نیند ٹھکانا بات کرو

بیٹھ کے مجھ کو دیکھے جاتے ہو پاگل

چھوڑ بھی دو اب یہ مسکانا بات کرو

چھوڑ نہ دو تم خوف یہ کھائے جاتا ہے

خوف مٹا دو یہ انجانا بات کرو

پیار کی بستی کے دستور بھی سمجھو تم

ورنہ میں لوں گی ہرجانہ بات کرو

آپ جناب کی چھوڑو کاجل یہ تکرار

رہنے دو اب یہ فرمانا بات کرو


سمیرا سلیم کاجل

No comments:

Post a Comment