دماغ جانے لگا اور گمان بجھنے لگا
ہمارے بعد خدا کا جہان بجھنے لگا
وہ میری سمت چلا ایسی بے نیازی سے
فقیر جلنے لگا، اور مہان بجھنے لگا
میں وہ چراغ جو روشن رہا تھا صدیوں سے
میں خود سے ملنے کے کچھ درمیان بجھنے لگا
چھپے ہوئے تھے دیواروں کے بیچ وحشی لوگ
اور ان کی چیخوں سے سارا مکان بجھنے لگا
وہ اک مقام جہاں خود خدا سے ملنے لگے
جو اس مقام سے ہٹتے نشان بجھنے لگا
میں جان ہارنے آیا ہوا تھا لوگوں میں
میں زندہ ہوں پہ مگر آسمان بجھنے لگا
ابرار مظفر
No comments:
Post a Comment