Saturday, 8 January 2022

ہمارے بعد خدا کا جہان بجھنے لگا

دماغ جانے لگا اور گمان بجھنے لگا

ہمارے بعد خدا کا جہان بجھنے لگا

وہ میری سمت چلا ایسی بے نیازی سے

فقیر جلنے لگا، اور مہان بجھنے لگا

میں وہ چراغ جو روشن رہا تھا صدیوں سے

میں خود سے ملنے کے کچھ درمیان بجھنے لگا

چھپے ہوئے تھے دیواروں کے بیچ وحشی لوگ

اور ان کی چیخوں سے سارا مکان بجھنے لگا

وہ اک مقام جہاں خود خدا سے ملنے لگے

جو اس مقام سے ہٹتے نشان بجھنے لگا

میں جان ہارنے آیا ہوا تھا لوگوں میں

میں زندہ ہوں پہ مگر آسمان بجھنے لگا


ابرار مظفر

No comments:

Post a Comment